Pages

جمعہ، 12 جون، 2015

کفار مسلمانوں کی تعداد کم بتاتے ہیں

مرحوم لیگ آف نیشن کے محکمہ اعداد وشمار نے جو فہرست شائع کی تھی اس میں ستر کروڑ کے قریب مسلمانوں کی تعداد ظاہر کی گئی تھی اس پر بھئ کئی قرن گزر چکے ہیں ،اس موقعہ پر امیر شکیب ارسلام مرحوم کی تنبیہ کو یاد رکھنا چاھئے جس کا زکر انہوں نے گھراب سٹوا ڈارڈ نیو ورلڈ آف اسلام لے عربی ترجمہ کے نوٹ میں کیا ہے اس میں مرحوم نے لکھا ہے یورپ کے عام مورخین کا یہ عام دستور ہے کہ بہت قدیم زمانہ میں مسلمانوں کی تعداد کا جو تخمینہ یورپ میں کیا گیا تھا اسی کو دہراتے رہتے ہیں حالانکہ مسلمانوں کی تعداد روزبروز بڑھتی جارہی ہے ، جرمنی کے اک محقق ڈاکٹر نالسن نے صرف افریقہ کے مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ کرتے ہوئے تیس سال پہلے لکھا تھا کہ چھتر ملین کے قریب ہے اس طرح انڈونیشیا روس ،چین وغیرہ کے مسلمانوں کی تعداد وجغرافیہ کی کتابوں میں گھٹا کر بتانیکے یورپ والے عموما عادی ہیں 
(یہ مولنا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کسی کتاب کا اقتباس ہے غالبا)
مکمل تحریر >>

مسلمانوں کی تعداد میں تیز رفتاراضافہ



واشنگٹن: امریکہ کے تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کی آبادی ایک ارب ساٹھ کروڑ سے زیادہ ہوچکی ہے، جو دنیا کی آبادی کا تیئس فیصد حصہ ہے۔
یوں مسلمانوں کی تعداد دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے، پہلے نمبر پر عیسائی مذہب کے پیروکاروں کی تعداد ہے، جو دنیا کی آبادی کا بتیس فیصد حصہ ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر کی یہ رپورٹ جو مذہبی تغیر کو جاننے کے ایک بڑے منصوبے کا ایک حصہ ہے، دنیا کی اسّی زبانوں میں شایع کی گئی ہے۔
اس رپورٹ کی تیاری میں اُنتالیس ممالک کے چالیس ہزار افراد کا سروے کیا گیا اور اُن سے مختلف سوالات پوچھے گئے۔
پاکستان سمیت گیارہ ممالک میں دو تہائی یعنی چھیاسٹھ فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ دنیا کی کل مسلم آبادی کا تیرہ فیصد حصہ انڈونیشیا میں، گیارہ فیصد ہندوستان اور پاکستان میں اور آٹھ فیصد مسلمان بنگلہ دیش میں رہائش پذیر ہے۔
جبکہ نائجریا، مصر، ایران اور ترکی میں پانچ فیصد اور الجیریا اور مراکش میں دنیا بھر کے مسلمانوں کا دو فیصد رہائش پزیر ہے، اس طرح مسلمان انچاس ملکوں میں اکثریت میں ہیں۔
اس کے باوجود کہ ہندوستان میں مسلمان بڑی تعداد میں مقیم ہیں لیکن مجموعی آبادی میں ان کا تناسب کم ہونے کی وجہ سے ان کا شماراقلیت میں ہوتا ہے۔
اہم مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد اور ان کے رجحانات کے حوالے سے تیار ہونے والی اس رپورٹ میں کے مطابق عیسائی مذہب کے پیروکار دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ہندومت کے ماننے والوں کی بڑی تعداد ہندوستان میں ہی رہتی ہے۔
مذکورہ رپورٹ کے مطابق یوں تو تمام مسلمان اسلام کے بنیادی اصولوں پر متفق نظر آتے ہیں، لیکن ان اصولوں کی تشریحات کے حوالے سے ان میں شدید اختلافات موجود ہیں، جو اکثر شدید تصادم کی صورت میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔
مسلمانوں کے دو بڑے گروہ میں سے اٹھاسی سے نوے فیصد سنی جبکہ گیارہ سے تیرہ فیصد شیعہ ہیں۔
مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ایشیا پیسیفک کے علاقے میں مقیم ہے۔
مسلمانوں میں کم عمر افراد بڑی تعداد میں ہیں اور ان میں تئیس سال کے نوجوانوں کی کثرت ہے جبکہ مسلمانوں کے علاوہ دنیا بھر کی دیگر قومیتوں اور مذاہب کے ماننے والوں میں اٹھائیس سال کے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔
عیسائی مذہب کے پیروکاروں میں زیادہ تعداد تیس برس کے افراد کی ہے جبکہ ہندومت کے پیروکاروں میں چھبیس سال کے نوجوانوں کی اکثریت ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عرب ممالک میں پینتس سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد مذہبی ہیں، جبکہ وسطی ایشیاء کے مسلم ممالک میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔
اُنتالیس مسلم ممالک میں مذہبی عبادات کا رُجحان مردوں میں عورتوں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے۔
افریقہ، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء کے مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں میں سے دس میں سے آٹھ افراد یہ یقین رکھتے ہیں کہ اُن کی زندگی میں مذہب انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
جبکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مسلمانوں میں دس میں سے چھ افراد مذہب اہمیت دیتے ہیں۔
وسطی ایشیاء اور سابقہ سوویت یونین کی مسلم اکثریتی آبادی والے علاقوں کے پچاس فیصد افراد مذہب کو اپنی زندگی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہیں۔
پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ مطابق دنیا بھر کے تریسٹھ فیصد مسلمانوں کا یقین ہے کہ اسلام کی محض اُسی طرز پر تشریح کی جاسکتی ہے، جس طرز پر وہ یقین رکھتے ہیں۔
مکمل تحریر >>