مرحوم لیگ آف نیشن کے محکمہ اعداد وشمار نے جو فہرست شائع کی تھی اس میں ستر کروڑ کے قریب مسلمانوں کی تعداد ظاہر کی گئی تھی اس پر بھئ کئی قرن گزر چکے ہیں ،اس موقعہ پر امیر شکیب ارسلام مرحوم کی تنبیہ کو یاد رکھنا چاھئے جس کا زکر انہوں نے گھراب سٹوا ڈارڈ نیو ورلڈ آف اسلام لے عربی ترجمہ کے نوٹ میں کیا ہے اس میں مرحوم نے لکھا ہے یورپ کے عام مورخین کا یہ عام دستور ہے کہ بہت قدیم زمانہ میں مسلمانوں کی تعداد کا جو تخمینہ یورپ میں کیا گیا تھا اسی کو دہراتے رہتے ہیں حالانکہ مسلمانوں کی تعداد روزبروز بڑھتی جارہی ہے ، جرمنی کے اک محقق ڈاکٹر نالسن نے صرف افریقہ کے مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ کرتے ہوئے تیس سال پہلے لکھا تھا کہ چھتر ملین کے قریب ہے اس طرح انڈونیشیا روس ،چین وغیرہ کے مسلمانوں کی تعداد وجغرافیہ کی کتابوں میں گھٹا کر بتانیکے یورپ والے عموما عادی ہیں
(یہ مولنا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کسی کتاب کا اقتباس ہے غالبا)
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔